Book - حدیث 2004

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهَهُ بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ»

ترجمہ Book - حدیث 2004

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: بچہ خاوند کا مانا جائے گا زانی کے لیے پتھر ہیں حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ زمعہ کی لونڈی سے پیدا ہونے والے ایک لڑکے کے بارے میں حضرت عبد بن زمعہ ؓ اور حضرت سعد ؓ اپنا جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو حضرت سعد ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! جب میں مکہ گیا تھا تو میرے بھائی نے مجھے نصیحت کی تھی کہ میں زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھ کر اپنی کفالت میں لے لوں۔ حضرت عبد بن زمعہ ؓ نے کہا: وہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے۔ میرے والد کے گھر میں پیدا ہوا ہے۔ نبی ﷺ نے دیکھا کہ وہ (لڑکا) عتبہ سے مشابہت رکھتا ہے تو فرمایا: اے عبد بن زمعہ! وہ تمہارا بھائی ہے۔ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے۔ اور اے سودہ! تم اس سے پردہ کیا کرو۔ 1۔دور جاہلیت میں کسی کی لونڈی سے ناجائز تعلق قائم کرنا برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام میں صرف اپنی بیوی اور اپنی مملوکہ سے صنفی تعلق قائم کیا جاسکتا ہے۔ باقی ہر قسم کا صنفی تعلق قابل سزا جرم ہے۔(دیکھئے: سورۃ مومنون، آیت:5،6،7) جس طرح بیوی سے پیدا ہونے والا لڑکا مرد کا بیٹا ہوتا ہے ، اسی طرح اپنی مملوکہ لونڈی سے پیدا ہونے والا لڑکا بھی مرد کا آزاد بیٹا ہوتاہے، غلام نہیں۔3۔ جاہلیت میں ناجائز تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ اسی شخص کا بیٹا سمجھا جاتا تھا جس کے تعلقات کے نتیجے میں وہ پیدا ہوا۔جاہلیت کے اسی رواج کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاص ، زمعہ کی لونڈی سے پیدا ہونےوالے بچے کو اپنے بھا ئی کا بچہ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی کفالت میں رکھنا چاہتے تھے۔4۔ حضرت عبدبن زمعہ کا موقف یہ تھا کہ وہ بچہ قانونی طور پر ان کا بھائی ہے کیونکہ ان کے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے ، قطع نظر اس کے کہ اس کا حقیقی باپ کوئی بھی ہو۔5۔ بچے کی ظاہری شکل و شباہت سے یہی ثابت ہورہا تھا کہ وہ حضرت سعد کے بھائی سے پیدا ہوا ہے لیکن قانونی طور پر وہ حضرت عبد بن زمعہ کا بھائی قرار پایا۔6۔چونکہ واضح ہورہاتھا کہ وہ لڑکا حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا قانونی بھائی ہونے کے باوجود اصل میں بھائی نہیں، اس لیے رسول اللہﷺ نے ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا۔7۔ بعض اوقات ایک مسئلے کے دو پہلو ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس کے دو مختلف حکم مرتب ہوتےہیں۔ایک معاملے میں ایک پہلو کو ترجیح دی جاتی ہے اور دوسرے معاملے میں دوسرے پہلو کو ، جیسے اس لڑکے کو زمعہ کا بیٹا قرار دیے جانے کے باوجود اس کی بہن حضرت سود رضی اللہ عنہا کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا۔