Book - حدیث 2002

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ الرَّجُلُ يَشُكُّ فِي وَلَدِهِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا أَلْوَانُهَا؟» قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟» قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: «فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ؟» قَالَ: عَسَى عِرْقٌ نَزَعَهَا قَالَ: «وَهَذَا لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ» ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الصَّبَّاحِ

ترجمہ Book - حدیث 2002

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: اگر آدمی کو اپنی اولاد میں شک ہو حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قبیلہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری عورت نے سانولا لڑکا جنا ہے۔ (اور میں تو گورا ہوں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: وہ کس رنگ کے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ ہیں۔ فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: (جی ہاں)، ان میں خاکی رنگ کے بھی ہیں۔ فرمایا: ان میں یہ رنگ کہاں سے آ گیا۔ اس نے کہا: شاید کسی رگ نے زور کیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: شاید اس (لڑکے) میں بھی کسی رگ نے زور کیا ہو۔ یہ الفاظ (راؤی حدیث) ابن صباح کے ہیں۔ 1۔ باپ اور بیٹے کے رنگ میں فرق اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ بیٹا اپنے باپ کی جائز اولاد نہیں۔2۔رگ کے زور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ودھیال یا ننھیال کے کسی بزرگ : مثلاً: دادی، دادا، نانی، نانا یا ان کے بزرگوں میں سے کسی کی مشابہت بچے میں آگئی ہے، یعنی ان کے خون کا اثر ہے۔3۔ اپنی بیوی پر اس طرح اشارے کنائے سے شک کا اظہار بیوی پر اس الزام میں شمار نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں لعان کی ضرورت پڑتی ہے۔ لعان اس وقت ہوتا ہے جب مرد صاف طور پراپنی بیوی پر بدکاری کا الزام عائد کرے یا یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرے کہ یہ بچہ میرا نہیں۔