Book - حدیث 1995

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ مَا يَكُونُ فِيهِ الْيُمْنُ وَالشُّؤْمُ شاذ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ، حَدَّثَتْهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، «أَنَّهَا كَانَتْ تَعُدُّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ، وَتَزِيدُ مَعَهُنَّ السَّيْفَ»

ترجمہ Book - حدیث 1995

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: کون سی چیز مبارک یا منحوس ہوتی ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے: گھوڑے میں، عورت میں اور مکان میں۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓا یہ تین چیزیں شمار کر کے، ان کے ساتھ (چوتھی چیز) تلوار کا بھی ذکر کرتی تھیں۔ مذکورہ روایت کا آخری حصہ جس میں تلوار کا ذکر ہے ، کی صحت اورضعف کی بابت علمائے محققین میں اختلاف ہے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ اسے شاذ قرار دیتے ہیں اور مزید لکھتےہیں کہ اس ٹکڑے کے علاوہ روایت محفوظ ہے جبکہ امام بوصیری رحمہ اللہ نے سیف ،یعنی تلوار کے اضافےکو زوائد ابن ماجہ میں ذکر کیا ہے او راس کی بابت لکھا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور امام مسلم کی شرائظ پر ہے ، نیز انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ اضافہ صرف سنن ابن ماجہ ہی میں ہے اور اسکی اصل صحیحن میں ہے جن میں یہ اضافہ نہیں ہے ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے :(الموسوعہ الحدیثیہ مسند الامام احمد : 8۔144،146) وضعیف سنن ابن ماجہ ، رقم 434،وسنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشاو عواد ، رقم : 1995 )