Book - حدیث 1990

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ مَتَى يُسْتَحَبُّ الْبِنَاءُ بِالنِّسَاءِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي» ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ

ترجمہ Book - حدیث 1990

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: رخصتی کب مستحب ہے حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے مجھ سے شوال میں نکاح فرمایا، اور شوال ہی میں مجھے (رخصتی کرا کے) اپنے گھر لائے، پھر نبی ﷺ کی کون سی زوجہ محترمہ کو مجھ سے زیادہ نبی ﷺ کی قربت حاصل تھی؟ (حضرت عروہ نے فرمایا: ) حضرت عائشہ ؓا اپنے کنبے کی عورتوں کی رخصتی شوال میں کرنا پسند کرتی تھیں۔ 1۔ جاہلیت میں شوال کا مہینہ نامبارک سمجھا جاتاتھا : اسی لیے لوگ اس میں شادی بیاہ سے اجتناب کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی مثال دے کر اس غلظ خیال کی تردید فرمائی ۔ 2۔ کسی خاص دن مہینے یاعدد کو منحوس سمجھنا جاہلیت کا طریق ہے ۔ بعض لوگ ماہ محرم کو ، یا صفر کےپہلے تیرہ دنوں کو یا تیرہ کے عدد کو نامبارک سمجھ کر اس میں کوئی نیا کام شروع کرنا پسند نہیں کرتے ۔ ایسے تو ہمات کی تردرد ضروری ہے ، قول سے ہو یا عمل سے ۔