Book - حدیث 1978

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ حُسْنِ مُعَاشَرَةِ النِّسَاءِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ»

ترجمہ Book - حدیث 1978

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: عورتوں سے حسن سلوک حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں، جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہیں۔ 1۔ خاوند بیوی اور بچے مل کر معاشرے کی بنیادی اکائی تشکیل دیتے ہیں ۔ زندگی گزارنے کےلیے گھر کے ان افراد کو باہمی تعاون کی ضرورت دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ، اس لیے ان کے تعلقات کی اصلاح معاشرے کی اصلاح کی بنیاد ہے خاوند اور بیوی کے باہمی تعلقات محبت ، ہمدردی ، ایثار اور اخلاص پر مبنی ہونے چاہییں ۔ بیوی سے حسن سلوک کا فائدہ سب سے پہلے خود خاوند کو حاصل ہوتا ہے ، اسی طرح خاوند سے محبت اور احترام کا رویہ سب سے پہلے خود عورت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے ۔ خاوند بیوی کے بہتر تعلقات کے نتیجے میں بچے بھی رحمت ثابت ہوتے ہیں لیکن اگر میاں بیوی کے تعالقات خوش گوار نہیں تو بچوں پر اس کا برا اثر ہوتا ہے اوروہ بری عادات سیکھ کر والدین کے لیے بھی مصیبت ہوتے ہیں او رمعاشرے میں بھی فتنے فساد کا باعث بنتے ہیں ۔ کسی غلط کام سے روکنے کے لیے مناسب حد تک سختی کرنا حسن سلوک کے منافی نہیں ۔