Book - حدیث 1967

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ الْأَكْفَاءِ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابُورَ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخُو فُلَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ ابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ»

ترجمہ Book - حدیث 1967

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: ہم مرتبہ خاندان میں رشتہ کرنا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے پاس ایسا آدمی (رشتہ مانگنے) آئے، جس کا اخلاق اور دین تمہیں پسند ہو تو اسے رشتہ دے دو۔ اگر تم یوں نہیں کرو گے تو زمین میں بہت زیادہ فتنہ و فساد پیدا ہو جائے گا۔ 1۔ رشتہ کرتے وقت اخلاق و کردار اور دینی حالت کو پیش نظر رکھنا چائیے ۔ ہم مرتبہ (کفو) ہونے کا مطلب یہی ہے ۔ اس مفہوم کی ایک حدیث باب 6 میں گزر چکی ہے (سنن ابن ماجہ ، حدیث : 1858) 2۔اگر دین کے علاوہ خاندان اورمال وغیرہ کو پیش نظر رکھا جائے تو کئی نیک لڑکیاں بےنکاح رہ جائیں گی ۔ اور یہ چیز ان کےلیے تو دین کے لحاظ سے نیک نہ ہونےکی وجہ سےجھگڑے پیدا ہوں گے اور یہی مال و جمال یا اونچا خاندان مصیبت کا باعث بن جائے گا ۔ 3 ۔ یہ روایت بعض حضرات کےنزدیک حسن ہے ( دیکھئے :ارواہ الغلیل :2۔266، رقم 1868، والصحیحۃ ،وقم 1022)