Book - حدیث 1949

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ لَبَنِ الْفَحْلِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ» ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ»

ترجمہ Book - حدیث 1949

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: دودھ کا تعلق مرد سے بھی ہوتا ہے حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے رضاعی چچا نے آکر مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ (معلوم ہونے پر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تیرے چچا کو تیرے پاس (گھر میں) آنا چاہیے۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دود پلایا ہے، مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تیرے چچا ہیں، انہیں تیرے پاس آنا چاہیے۔ 1۔رضاعی رشتے جس طرح دودھ پلانے والی عورت کی طرف سے قائم ہوتے ہیں ( رضاعی ماموں ، رضاعی خالہ وغیرہ ) اسی طرح اس عورت کا خاوند دودھ پینے والے بچے کا باپ بن جاتا ہے اور اس کی طرف سے دودھ کے رشتے قائم ہوتے ہیں ( رضاعی چچا ، تایا ، رضاعی پھوپھی وغیرہ )۔ جو رشتے نسبی طور پر محرم ہیں وہ رضاعی طور پر بھی محرم ہیں لہذا ان رضاعی رشتہ داروں کا آپس میں پردہ نہیں اور ان کا باہم نکاح بھی جائز نہیں ۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیئے حدیث 1937 کے فوائد ) اگر کسی مسئلہ میں شاگرد کو کوئی اشکال یا شبہ ہو تو استاد سے بیان کر دینا چاہیے اور استاد کو چاہیے کہ مناسب انداز سے اشکار دور کر دے ۔ ہاتھ کو مٹی لگنے کے محاورہ سے اہل عرب فقر و مسکنت مراد لیتے ہیں تاہم تعجب کے موقع پر یہ جملہ بولنے سے بددعا مراد نہیں ہوتی ۔