Book - حدیث 1926

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ الْعَزْلِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: «أَوَتَفْعَلُونَ؟ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ لَهَا أَنْ تَكُونَ، إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ»

ترجمہ Book - حدیث 1926

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: عزل کا بیان حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم یہ کام کرتے ہو؟ اگر نہ کرو تو کوئی حرج نہیں، جس روح کو پیدا کرنے کا اللہ نے فیصلہ کر لیا ہے، وہ ہو کر رہے گی۔ 1۔عزل کا مطلب ہے عورت سے جماع کرتے وقت جب انزال ہونے لگے تو پیچھے ہٹ جائے تاکہ حمل ٹھہرنے کا اندیشہ نہ رہے ۔ لونڈیوں سے اس لیے عزل کیا جاتا ہے کہ ان کے ہاں اولاد نہ ہو کیونکہ اولاد ہونے کے بعد اگر لونڈی کو بیچا جائے تو اس کا بچہ پہلے مالک کے پاس رہ جائے گا ۔ اس طرح ماں بیٹے میں جدائی ہو جائے گی جو نامناسب ہے ۔ ’’ اگر نہ کرو تو کوئی حرج نہیں ۔‘‘ اس میں اشارہ ہے کہ اجتناب بہتر ہے تاہم سختی سے منع نہیں کیا گیا بلکہ صحیحین میں حضرت جابر سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عزل کیا کرتے تھے اور قرآن نازل ہو رہا تھا ۔‘‘ ( صحیح البخاری ، النکاح ، باب العزل ، حدیث : 5209، وصحیح مسلم ، النکاح ، باب حکم العزل ، حدیث : 1440) یعنی ہم نبی اکرم ﷺ کے عہد میں بھی ایسا کرتے تھے اور اگر یہ فعل حرام ہوتا تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی اس سے منع فرما دیتا۔بنا بریں علمائے کرام اس کی بابت لکھتے ہیں کہ آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل نہ کیا جائے کیونکہ اسے اولاد پیدا کرنے کا حق ہے ، لہذا اگر عورت بیماری یا کمزوری کی وجہ سے حمل وولادت کی مشقت برداشت نہ کرسکتی ہو تو عزل کیا جا سکتا ہے ، نیز مانع حمل گولیوں کا بھی بالکل یہی حکم ہے ۔ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین  اس کی بابت یوں لکھتے ہیبں کہ عورتوں کو درج ذیل دو شرطوں کے بغیر مانع حمل گولیاں استعمال نہیں کرنی چاہییں : عورت کو اس کی واقعی ضرورت ہو ، مثلا : وہ بیمار ہو اور ہر سال حمل کی متحمل نہ ہو سکتی ہویا بے حد لاغر اور کمزور ہو یا کچھ اور ایسے موانع ہوں جن کی وجہ سے ہر سال حمل ہونا اس کے لیے جان لیوا اور نقصان دہ ہو ۔ (2)شوہر نے اسے اس کی اجازت دے دی ہو کیونکہ شوہر کا یہ حق ہے کہ بیوی اس کے لیے اولاد پیدا کرے ، علاوہ ازیں ان گولیوں کے استعمال کے لیے طبیبب سے یہ مشورہ کرنا بھی ضروری ہے کہ ان کا استعمال نقصان دہ تو نہیں لہذا جب یہ دونوں شرطیں پوری ہو جائیں تو پھر ان گولیوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں لیکن ایسی گولیاں استعمال نہ کی جائیں جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مانع حمل ہوں کیونکہ یہ قطع نسل کے مترادف ہو گا جو کہ کبیرہ گناہ ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیئے ( فتاوی اسلامیہ ، ( اردو ) : 3؍215،216 مطبوعہ دارالسلام) ’’ خاندنی منصوبہ بندی‘‘ کا موجودہ تصور یہ ہے کہ زیادہ بچے ہوں گے تو ان کا خرچ برداشت کرنا اور دیکھ بھال کرنا مشکل ہو گا ۔ یہ ایک غلط تصور ہے ۔ جاہلیت میں جو لوگ اس ڈر سے بچوں کو قتل کر دیتے تھے ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْ‌زُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرً‌ا) (بنی اسرائیل : 31) ’’ اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ۔ ان کو بھی ہم ہی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی ۔ یقیناً ان کا قتل کبیرہ گناہ ہے ۔‘‘ مغرب کے عیسائی ممالک مسلمانوں کو اس کی ترغیب اس لیے دیتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی افرادی قوت میں اضافے سے خوف زدہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خود اپنے لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے لگے ہیں ۔