Book - حدیث 192

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ صحیح حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟

ترجمہ Book - حدیث 192

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: فرقہ جہمیہ نے جس چیز کا انکار کیا سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‘‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو ہاتھ میں لے لے گا اور آسمان کو دائیں ہاتھ سےلپیٹ دے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟’’ (1) اس سے اللہ تعالی کے ہاتھ کا ثبوت ملتا ہے، تاہم اللہ کی ان صفات کے بارے میں اپنے ذہن سے کوئی تصور تراش لینا درست نہیں، جتنی بات بتائی گئی اس پر ایمان لانا اور اللہ کی صفات کو مخلوق سے تشبیہ نہ دینا ضروری ہے۔ (2) موجودہ آسمان قیامت کے دن ختم ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں اس کے لیے لپیٹنے کا لفظ آیا ہے: (وَالسَّمـوتُ مَطوِيّـتٌ بِيَمينِهِ) (الزمر:67) اور آسمان اس کے دائین ہاتھ میں، لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اور پھٹ جانے کا ذکر بھی ہے: (إِذَا السَّماءُ انشَقَّت) (الانشقاق:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (3) دنیا کا اقتدار اور بادشاہی ایک امتحان اور آزمائش ہے، اصل بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔ ارشاد ہے: (قُلِ اللَّهُمَّ مـلِكَ المُلكِ تُؤتِى المُلكَ مَن تَشاءُ وَتَنزِعُ المُلكَ مِمَّن تَشاءُ) (آل عمران:26) کہہ دیجئے، اے اللہ! اے بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہی دے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہی چھین لیتا ہے۔ قیامت کو یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آ جائے گی۔