Book - حدیث 1907

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ الْوَلِيمَةِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟ أَوْ مَهْ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»

ترجمہ Book - حدیث 1907

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: ولیمہ کا بیان حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ (کے لباس) پر زردمی کا نشان دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک گھٹلی بھر سونے (حق مہر) پر ایک خاتون سے نکاح کر لیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری ہی ہو۔ 1۔ارشاد نبوی ہے : ’’ مردوں کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ غیر واضح ہو ۔ اور عورتٔ کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک غیر واضح ہو ۔ ( جامع الترمذی ، الادب ، باب ماجاء فی طیب الرجال ا لنساء ، حدیث : 2787) رسول اللہ ﷺ نے صحابی کے لباس میں عورتوں کی خوشبو کا نشان دیکھا اس لیے دریافت کیا کہ تم نے عورتوں کی خوشبو کیوں لگا رکھی ہے ؟ اس میں ایک لطیف انداز سے تنبیہ بھی ہے کہ اس کا استعمال تمہارے لیے مناسب نہیں ۔ اور یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر کوئی معقول عذر ہے تو بیان کرو ۔ کسی میں غلطی دیکھ کر فورا سختی کرنا درست نہیں بلکہ غلطی کرنے والے سے اس کی وجہ دریافت کرنی چاہیے تاکہ اسے اتنی ہی تنبیہ کی جائے جتنی ضروری ہے ۔ گٹھلی سے مراد کجھور کی گٹھلی ہے ۔ یہ اس دور کا ایک معروف وزن تھا ۔ جس کی مقدار پانچ درہم ( تقریبا ڈیڑھ تولہ ) ذکر کی گئی ہے ۔ ( مرقاۃ شرح مشکاۃ ، النکاح ، باب الولیمۃ ، حدیث : 3210) ارشاد نبوی ’’ اگرچہ ایک بکری ہو ۔‘‘ میں اشارہ ہے کہ ان میں زیادہ کی استطاعت تھی اس سے معلوم ہوا کہ ولیمے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی گنجائش کے مطابق جس قدر اہتمام آسانی سے اور زیر بار ہوئے بغیر ہو سکے وہ کافی ہے ۔