Book - حدیث 1883

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الشِّغَارِ صحیح حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ أَوْ أُخْتَكَ، عَلَى أَنْ أُزَوِّجَكَ ابْنَتِي أَوْ أُخْتِي، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ

ترجمہ Book - حدیث 1883

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: نکاح شغار کی ممانعت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔ اور شغار یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہے: تم مجھ سے اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح کر دو، اس کے عوض میں تم سے اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح کر دوں گا اور ان دونوں (عورتوں) کا حق مہر کچھ نہ ہو۔ 1۔نکاح شغار یا متبادل شادیوں سے مراد وہی صورت ہے جو پنجاب میں ’’ وٹہ سٹہ ‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔ اس کی تفسیر روایت میں ذکر ہو چکی ہے ۔ نکاح شغار میں یہ خرابی ہے کہ اگر ایک طرف میاں بیوی میں ناچاقی ہوئی ہے تو دوسری طرف اس کا بدلہ چکانے کی کوشش کی جاتی ہے حتیٰ کہ دونوں میں سے اگر ایک مرد کسی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو دوسرا بھی اپنی بے قصور بیوی کو طلاق دے دیتا ہے ۔ جاہلیت میں نکاح شغار میں حق مہر کا تعین نہیں کیا جاتا تھا ۔ نہ مہر مثل ہی ادا کیا جاتا تھا ۔ گویا عورت کا عورت سے تبادلہ ہوتا تھا ۔ آج کل اگرچہ حق مہر مقرر کرتے ہیں لیکن پھر بھی وہ خرابی بددستور رہتی ہے کہ ایک مرد کی زیادتی کا بدلہ اس کی بیٹی پر زیادتی کر کے اتارنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس لیے اس صورت سے بھی اجتناب ہی کرنا چاہیے۔