Book - حدیث 1870

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ اسْتِئْمَارِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ صحیح حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي أَنْ تَتَكَلَّمَ، قَالَ: «إِذْنُهَا سُكُوتُهَا»

ترجمہ Book - حدیث 1870

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: کنواری اور شوہر دیدہ سے اجازت لینا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شوہر دیدہ اپنی ذات پر اپنے والی (سر پرست) سے زیادہ اختیار رکھتی ہے۔ اور کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کنواری بات کرتے ہوئے شرماتی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔ 1۔یہاں [ایم] سے مراد وہ عورت ہے جس کا پہلے نکاح ہوا تھا ، پھر خاوند سے جدائی ہو گئی خواہ خاوند کی وفات کی وجہ سے ہو یا طلاق کی وجہ سے یعنی اس لفظ سے بیوہ اور طلاق یافتہ دونوں مراد ہیں ۔ دونوں کا ایک ہی حکم ہے ۔ نکاح میں لڑکی کی رضامندی بھی ملحوظ رکھی جائے اور سرپرست کی اجازت بھی ضروری ہے ۔ کنواری لڑکی اگر شرم و حیا کی وجہ سے بول کر رضامندی ظاہر نہ کرسکے تو اس کی خاموشی کو رضامندی تصور کر لیا جائے گا ، بشرطیکہ دوسرے قرائن سے محسوس نہ ہو کہ یہ خاموشی ناراضی کی وجہ سے ہے ۔ بیوہ یا مطلقہ کی اجازت واضح طور پر کلام کے ذریعے سے ہونا ضروری ہے اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لینا کافی نہیں ۔ بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کو چاہیے کہ عدت گزرنے کے بعد دوبارہ کسی مناسب جگہ نکاح کر لے۔ اس کے سرپرست کو بھی چاہیے کہ دوسرا نکاح کرنے میں اس سے تعاون کرے ۔ بے نکاح بیٹھ رہنا درست نہیں الا یہ کہ عمر اتنی زیادہ ہو گئی ہو کہ دوسرا نکاح کرنا مشکل ہو ....یا کوئی اور رکاوٹ ہو ۔