Book - حدیث 1868

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ صحیح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ»

ترجمہ Book - حدیث 1868

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: پیغام نکاح پر پیغام نکاح دینے کی ممانعت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے۔ 1۔[خطبۃ] ’’ خا‘‘ کی زیر سے کا مطلب ہے کہ نکاح کے لیے بات چیت شروع کرنا یعنی کسی عورت کے سرپرستوں سے یہ درخواست کرنا کہ وہ اس کا رشتہ دے دیں ۔ جب کسی عورت کے لیے اس کے گھر والوں سے بات چیت ہو رہی ہو اور رشتہ طے پا جانے کی امید ہو تو دوسرے آدمی کو اس عورت کے لیے بات چیت شروع نہیں کرنی چاہیے ۔ اگر محسوس ہو کہ ابھی عورت نے اس مرد کو قبول کرنے کا فیصلہ نہیں کیا اور اس کی طرف واضح میلان نہیں تو دوسرے آدمی بھی پیغام بھیج سکتا ہے تاکہ عورت فیصلہ کر سکے کہ اس کے لیے ان دونوں میں سے کون سا مرد زیادہ مناسب ہے اور اس کے سرپرست بھی معاملے پر بہتر انداز سے غور کر سکیں ۔ اس ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ مسلمانوں کے باہمی معاملات میں بگاڑ پیدا نہ ہو اور آپس میں ناراضی پیدا نہ ہو ۔