Book - حدیث 1838

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ مَنْ سَأَلَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرَ جَهَنَّمَ، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيُكْثِرْ»

ترجمہ Book - حدیث 1838

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل باب: مال دار ہوتے ہوئے ( بلا ضرورت) سوال کرنا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مال میں اضافہ کرنے کے لیے لوگوں سے ان کی دولت مانگتا ہے وہ تو جہنم کے انگاروں کا سوال کر رہا ہے۔ (اسے اختیار ہے کہ) کم طلب کرے یا زیادہ مانگ لے۔ 1۔بغیر ضرورت کے سوال کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ انسان اس طرح خود کو جہنم کے نگاروں کا مستخق بنا لیتا ہے ۔ حرام کمائی سے اجتناب فرض ہے ۔