Book - حدیث 1820

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ خَرْصِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ حسن حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ، وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، وَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ، بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ، فَحَزَرَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدْعُونَهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ: فِي ذَا كَذَا وَكَذَا، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، فَقَالَ: فَأَنَا أَحْزِرُ النَّخْلَ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، قَالَ: فَقَالُوا: هَذَا الْحَقُّ، وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، فَقَالُوا: قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَ بِالَّذِي قُلْتَ

ترجمہ Book - حدیث 1820

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل باب: کھجور اور انگور کی پیداوار کا اندازہ کرنا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے خیبر فتح کیا تو ان سے یہ طے کیا کہ زمین اور تمام سونا چاندی نبی ﷺ کا ہو گا۔خیبر والوں نے کہا: ہم لوگ زمین (کی کاشت اور دیکھ بھال) سے زیادہ واقف ہیں تو یہ زمین ہمیں (کاشت کے لیے) اس شرط پر دے دیجئے کہ ہم اس میں (زراعت کا) کام کریں اور پھلوں کا نصف ہمارا ہو، نصف تمہارا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں اس شرط پر وہ زمین دے دی۔ جب کجھوروں کے پھل اتارنے کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کو ان کے پاس بھیجا۔ انہوں نے کجھوروں (کے پھل) کا اندازہ لگایا، مدینے والے اندازہ لگانے کو خرص کہتے تھے، اور فرمایا: اس باغ میں اتنا پھل ہے۔ انہوں نے کہا: ابن رواحہ! آپ نے (صحیح مقدار سے) زیادہ اندازہ لگایا ہے۔ انہوں نے فرمایا: تب میں کھجوروں کا اندازہ لگا جر جو مقدار معتین کرتا ہوں اس کا نصف تمہیں دے دوں گا۔ انہوں (یہودیوں ) نے کہا: یہی حق ہے، اسی پر آسمان اور زمین قائم ہیں۔ اور کہا: ہم اتنا ہی لینے پر راضی ہیں جتنا آپ کہتے ہیں۔ 1۔جو زمین جنگ کر کے کافروں سے چھین لی جائے وہ اسلامی سلطنت کی ملیکت ہوتی ہے ، اسے خراجی زمین کہتے ہیں ۔ اس کی پیداوار خلیفۃ المسلمین کی صواب دید کے مطابق ملک وملت کے فائدے کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ مزارعت ، یعنی زمین کا مالک خود کاشت کرنے کے بجائے کسی کو کاشت کرنے کے لیے کہے اور پیداوار نصف نصف یا کم و بیس طے شدہ شرح سے باہم تقسیم کر لی جائے جائز ہے ۔ کھجور اور انگور وغیرہ کے باغوں کے بارے میں بھی یہ معاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔ ذمیوں اور غیر مسلموں سے تجارتی تعلقات قائم کیے جاسکتے ہیں ، بشرطیکہ کوئی لین دین اسلامی قوانین کے خلاف نہ ہو ۔ جو پھل خشک ہونے سے پہلے تازہ استعمال کیا جاتا ہے ، اس کے بارے میں اندازے سے مقدار کا تعین کیا جاسکتا ہے تاکہ خشک ہونے پر طے شدہ مقدار وصول کر لی جائے ۔ یہود نے غلط اندازے کا الزام اس لیے لگایا تھا کہ انہیں کچھ رشوت دے کر اندازہ کم کروالیا جائے لیکن حضرت عبداللہ بن رواحہ نے دیانت داری کا رشتہ ترک کرنے سے انکار کر دیا ۔ حضرت ابن رواحہ نے قانون کے مطابق اندازہ لگا کر یہود کو اختیار دیا تھا کہ وہ پھل اتارنے کے وقت اس اندازے کا نصف ، یعنی مسلمانوں کا حصہ ادا کردیں اور باقی اپنی سہولت کے مطابق اب بھی اور بعد میں بھی استعمال کرتے رہیں ۔ ان کے اعتراض پر فرمایا کہ چلو ہم یہ مقدار تمہیں ادا کر دیتے ہیں اور پھل ہم خود اتار لیں گے تاکہ تمہارے کہنے کے مطابق تمہیں جو نقصان ہوتا ہے وہ ہمیں ہو جائے ، مثلا : اگر کسی کے درختوں کی پیداوار کا اندازہ سو من لگایا گیا ہے تو اصول کے مطابق یہود کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو پچاس من کھجوریں دے دیں لیکن اگر ان کا خیال ہے کہ پیداوار سو من نہیں اسی (80) من ہے تو ہم خود سارا پھل اتار کر اس سے پچاس من انہیں دےدیں گے ۔ اگر ان کا اعتراض سچ ہے تو اس پیشکش کو قبول کرنے کی صورت میں انہیں دس من کا فائدہ ہو جائے گا لیکن چونکہ حضرت ابن رواحہ کا اندازہ درست تھا ، اس لیے یہودیوں نے یہ پیشکش قبول نہ کی اور ان سے صحیح اندازے کے مطابق حصہ وصول کیا گیا ۔ انصاف پر عمل کرنے میں اجتماعی فائدہ ہے جس کی وجہ سے انصاف پر کاربند رہنے والا بھی دنیا و آخرت میں فائدے میں رہتا ہے ، جب کہ بے انصافی کی صورت میں مجرم بھی اس کے اثرات بد سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ زراعت سے تعلق رکھنے والے دیگر مسائل کتاب التجارات اور کتاب الرھون میں ذکر کیے جائیں گے ۔ ان شاء اللہ