Book - حدیث 1804

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ صَدَقَةِ الْبَقَرِ صحیح حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خَصِيفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فِي ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ، أَوْ تَبِيعَةٌ، وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ»

ترجمہ Book - حدیث 1804

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل باب: گائے ( بیلوں ) کی زکاۃ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ہر تیس گایوں میں ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی (زکاۃ) ہے، اور چالیس پر دو دانت کا (دو سالہ جانور)۔ (1)اس باب کی مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین میں سے بعض نے حسن اور بعض نے صحیح قرار دای ہے اور انہوں نے اس کے شواہد بھی بیان کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سندا ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہیں ۔ مذکورہ دونوں روایتوں کی اسنادی بحث اور ان میں مذکور مسئلہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے : ( الموسوعۃ الحدیثۃ مسند الامام احمد : 7؍21 ، 22 ، 23، 36؍339،340،341 ، و ارواء الغلیل : 3؍268 ، 271 ، رقم : 795 ، وسنن ابن ماجہ للدکتور بشار عواد ، حدیث : 1803 ، 1804) تیس سے کم گائے بیلوں میں زکاۃ واجب نہیں ۔ گائے دو سال کی مسنہ ( دو دانت والی ) ہوتی ہے ۔ گائے بیلوں کی زکاۃ کا حساب کرنے کے لیے دیکھنا چاہیے کہ ان کے تیس تیس یا چالیس چالیس کے کتنے گروہ بنتے ہیں ، پھر اس کے مطابق ایک سال یا دو سال کے بچھڑے بچھڑیاں لے لی جائیں ، یعنی تیس (30) پر ایک سال کا ایک جانور اور چالیس (40) پر دو سال کا ایک جانور واجب ہے ۔ اس کے بعد ساتھ (60) پر ایک ایک سال کے دو جانور ۔ ستر (70) پر دو سال کا ایک اور ایک سال کا ایک ۔ اسی (80) پر دو سال کے دو ۔ نوے (90) پر ایک سال کے تین ۔ سو (100) پر دو سال کا ایک اور ایک ایک سال کے دو بچھڑے بچھڑیاں بطور زکاۃ ادا اور وصول کیے جائیں گے۔ بھینس عرب کا جانور نہیں ، اس لیے حدیث میں اس کا ذکر نہیں آیا لیکن اپنے فوائد اور قدر وقیمت کے لحاظ سے اور شکل و شباہت کے لحاظ سے یہ گائے سے ملتا جلتا جانور ہے ، اس لیے احتیاط کا تقاضا ہے کہ اسے بھی گائے کے حکم میں سمجھا جائے ۔ امام ابن المنذر نے اس پر اجماع لکھا ہے کہ بھینسیں بھی گایوں کے حکم میں ہیں ۔ دیکھیئے : ( فتاوی ابن تیمیہ : 25؍37) اگر گائیں اور بھینسیں مل کر نصاب پورا ہوتا ہو تو زکاۃ ادا کردی جائے ۔ زکاۃ کے طور پر وہ جانور دیا جائے جس کی تعداد ریوڑ میں زیادہ ہے ، مثلا : اگر بیس گائیں اور دس بھینسیں ہیں تو زکاۃ کے طور پر ایک سالہ بچھڑی دی جائے اور اگر دس گائیں اور بیس بھینسیں ہیں تو ایک سالہ کٹڑایا کٹڑی ( بھینس کا نر یا مادہ بچہ ) دے دی جائے ۔