Book - حدیث 1785

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ مَا جَاءَ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، وَلَا غَنَمٍ، وَلَا بَقَرٍ، لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ»

ترجمہ Book - حدیث 1785

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل باب: زکاۃ نہ دینے والے کی سزا حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اونٹوں، بکریوں یا گایوں کا جو مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، (اس کے یہ جانور) قیامت کے دن انتہائی بڑے اور موٹے ہو کر آئیں گے، وہ اسے سینگوں سے ماریں گے اور پاؤں سے روندیں گے، جب آخری جانور گزر چکیں گے تو پہلے جانے والے دوبارہ آ جائیں گے۔ (اسے یہی عذاب ہوتا رہے گا) حتی کہ (سب) لوگوں کا فیصلہ ہو جائے گا۔ (1)نہ دینا بہت بڑا گناہ ہے ۔(2) جانوروں میں بھی زکاۃ فرض ہے جس کی تفصیل اگلے ابواب میں آرہی ہے ۔)(3) کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کو میدان حشر میں بھی گناہوں کی سزا ملے گی ۔(4) بعض صورتوں میں ممکن ہے کہ محشر کی یہ سزا ہی اس کے لیے کافی ہو جائے اور جہنم کی سزا نہ بھگتنی پڑے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ( اسے یہ عذاب ہوتا رہے گا ) اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے حتی کہ لوگوں کا فیصلہ ہو جائے گا پھر اسے جنت یا جہنم کا راستہ دکھا دیا جائے گا ۔‘‘ ( صحیح مسلم ، الزکاۃ ، باب اثم مانع الزکاۃ ، حدیث : 987)