Book - حدیث 1750

كِتَاب الصِّيَامِ بَابُ مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ

ترجمہ Book - حدیث 1750

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت باب: جب روزے دار کو کھانے کی دعوت دی جائے ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ کہہ دے: میں روز ے سے ہوں۔ ‘‘ 1۔ جب روزے دار کو کھا نے کی دعوت دی جا ئے تو اس کے لئے جا ئز ہے کہ رو زہ کھو ل کر دعوت قبول کر لے اور کھا نے میں شر یک ہو جا ئے اور یہ بھی جا ئز ہے کہ کھا نے سے معذرت کر لے۔ 2 روزہ دار کا دعوت دینے وا لے کو بتا نا کہ میں روزے سے ہو ں ریا کا ری میں شا مل نہیں کیو نکہ اس کا مقصد اپنی نیکی کا اعلا ن نہیں بلکہ اپنے عذر کا اظہار ہے 3 یہ حکم نفلی روزے کے لئے ہے فرضی روزہ کھو لنا جا ئز نہیں سوا ئےاس کے کہ سفر یا مر ض وغیرہ کا ایسا معقو ل عذر مو جو د ہو جس کی وجہ سے اس کے لئے روزہ چھوڑنا شر عاً جا ئز ہو گیا ہو ۔