Book - حدیث 1732

كِتَاب الصِّيَامِ بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ ضعیف حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ

ترجمہ Book - حدیث 1732

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت باب: عرفے کے دن کا روزہ عکرمہ ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے کہا: میں ابو ہریرہ ؓ کے گھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے عرفات کے میدان میں عرفے کے دن کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں عرفے کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ مذکو رہ حدیث میں یو م عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت ثا بت ہو رہی ہے لیکن یہ حجا ج کرام کے سا تھ خا ص ہے کہ آپ نے حا جیوں کو اس دن کا روزہ رکھنے سے منع فرما یا ہے جیسے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا تھا( صحیح البخاری الصوم باب صوم یوم عرفہ حدیث 1988)نیز حجا ج کو عرفات کا وقوف اور اس اثنا میں دعا و مناجات میں مشغول رہنا ہو تا ہے اس لئے یہ عمل روزے کی نسبت اولی ہے غیر حا جی کے لئے اس روزے کی فضیلت گزشتہ احا دیث سے ثا بت ہے ۔