Book - حدیث 1700

كِتَاب الصِّيَامِ بَابُ مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ، وَالْخِيَارِ فِي الصَّوْمِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنْ اللَّيْلِ

ترجمہ Book - حدیث 1700

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت باب: روزے کی نیت رات کو کرنا اور روزہ پورا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار عبداللہ بن عمر ؓ نے ام المومنین حفصہ ؓا سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص رات سے روزے کا پختہ ارادہ نہ کرے، اس کا کوئی روزہ نہیں۔ ‘‘ 1۔مذ کورہ روایت کو ہمارے فا ضل محقق نے سند ا ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس مسئلہ کی با بت سنن النسائی میں بھی حضرت حفصہ سے مروی ہے وہ روا یت مو قو فا صحیح ہے دیکھیے (ارواء الغلیل 4/25۔30۔رقم 914)بنا بریں رات ست نیت کر نے کا مطلب شام سے کر نا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے نیت کر لینی چا ہیے خواہ رات کے کسی حصے میں نیت کی جا ئے جب بھی ارادہ بن جائے کہ صبح روزہ رکھنا ہے درست ہے 2 یہ حکم فرض اور واجب روزے کے لئے ہے نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے اسی طرح اگر نفلی روزہ بھی رکھ ہو ا ہو تو دن میں کسی وقت بھی چھوڑا جا سکتا ہے اس میں کو ئی گنا نہیں جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے 3 بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد قضا نذر اور کفا ر ہ وغیرہ کا روزہ ہے ۔