Book - حدیث 1640

كِتَاب الصِّيَامِ بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَمَنْ كَانَ مِنْ الصَّائِمِينَ دَخَلَهُ وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا

ترجمہ Book - حدیث 1640

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت باب: روزے کے فضائل سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریّان کہا جاتا ہے ۔ قیامت کے دن آواز دی جائے گی، کہا جائے گا: روزے رکھنے والے کہاں ہیں؟ چنانچہ جو شخص روزہ رکھنے والوں میں سے ہوگا، وہ اس (دروازے ) میں داخل ہو جائے گا۔ اور جو اس میں داخل ہوگا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔‘‘ 1۔جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔جو مختلف نیکیوں کی طرف منسوب ہیں۔مثلا باب الصلاۃ(نماز کادروازہ) باب الجہاد(جہاد کادروازہ) باب الصدقۃ (صدقہ کا دروازہ) دیکھئے۔(صحیح البخاری الصوم باب الریان للصائمین حدیث 1897)2۔ایک شخص جس نیکی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔اور اس کی ادایئگی کی زیادہ کوشش کرتا ہے۔وہ اس نیکی سے منسوب دروازے سے جنت میں داخل ہوگا۔اگر زیادہ صفات کا حامل ہو۔تو ایک س زیادہ دروازوں سے بلا یا جائے گا۔مثلا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آٹھوں دروازوں سے بلایا جائے گا۔(صحیح البخاری الصوم باب الریان للصائمین حدیث 18973۔ ریان کا مطلب سیراب ہے۔روزہ دار بھوک پیاس برداشت کرتا ہے۔اور پیاس کابرداشت کرنا بھوک کی نسبت مشکل ہوتا ہے اس لئے روزہ داروں کےلئے جو دروازے مقرر ہے اسے بھی سیرابی کا دروازہ قرار دیا گیا ہے۔4۔فرض عبادات کی ادایئگی کے ساتھ ساتھ مسنون نفلی عبادات بھی ممکن حد تک ادا کرتے رہنا چاہیے۔نفلی عبادات کااہتمام جنت میں داخلے کا باعث ہے۔