Book - حدیث 1632

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِﷺ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا

ترجمہ Book - حدیث 1632

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب: رسول اللہ ﷺ کی وفات اور آپ کے دفن کا بیان عبداللہ بن عمر ؓماسے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ہم اپنی عورتوں سے بات کرتے ہوئے اور بے تکلفی کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے، اس ڈر سے کہ قرآن (میں ہماری کسی غلطی پر تنبیہ والا فرمان) نازل ہو جائے گا۔ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو ہم( ہر قسم کی ) باتیں کرنے لگے۔ (اس درجے کی احتیاط نہ رہی۔) 1۔اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے دل میں نبی اکرمﷺ کے احترام اور محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ بات کرتے ہوئے بھی احتیاط کرتے تھے۔2۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان اس قدر قوی تھا کہ آپﷺ کی مجلس ہی میں نہیں بلکہ گھروں میں تنہائی میں بھی اپنے اقوال وافعال میں اسی طرح محتاط رہتے تھے۔3۔صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کایہ عقیدہ نہیں تھا کہ نبی کریمﷺ براہ راست ہماری باتیں سن رہے ہیں۔اور ہمارے اعمال دیکھ رہے ہیں بلکہ یہ عقیدہ تھا کہ آپ ﷺ کو وحی کے زریعے سے ہمارے اعمال کی اطلاع ہوسکتی ہے۔