Book - حدیث 163

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فَضْلُ الْأَنْصَارِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ» قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِعَدِيٍّ: أَسَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ؟ قَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَ

ترجمہ Book - حدیث 163

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: انصار کی فضیلت حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جو انصار سے محبت کرے گا، اللہ اس سے محبت کرے گا، اور جو انصار سے بغض رکھے گا، اللہ اس سے بغض رکھے گا۔‘‘ شعبہ ؓ نے کہا: میں نے عدی سے پوچھا کہ کیا تم نے یہ حدیث حضرت براء بن عازب ؓ سے( خود) سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا مجھے انہوں نے ہی یہ حدیث بیان کی ہے۔ (1) انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت مدد کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر انتہائی سخت حالات تھے حتی کہ ان کے لیے اپنے وطن میں ٹھہرنا ممکن نہیں رہ گیا تھا۔ اس کے بعد انصار نے مالی طور پر بھی مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ہر ممکن تعاون کیا، پھر کفار سے جنگوں میں مہاجرین کے شانہ بشانہ جانی اور مالی قربانیاں پیش کیں، اس لیے انصار سے محبت دراصل اسلام اور پیغمبر اسلام سے محبت کا مظہر ہے، اور اللہ تعالیی کی محبت ایسے پاک باز لوگوں ہی کے لیے ہے۔ اور اسلام کے ان جاں نثارون سے نفرت، دراصل اسلام اور پیغمبر اسلام سے نفرت کا مظہر ہے جس کا کسی مسلمان سے تصور نہیں کیا جا سکتا، لہذا انصار سے نفرت کسی منافق ہی کے دل میں ہو سکتی ہے۔ (2) کسی سے محبت کرنا اور کسی سے بغض رکھنا اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے جو اس روایت سے ثابت ہو رہی ہے۔