Book - حدیث 1628

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِﷺ ضعیف حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَحْفِرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُوا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَكَانَ يَضْرَحُ كَضَرِيحِ أَهْلِ مَكَّةَ وَبَعَثُوا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَكَانَ هُوَ الَّذِي يَحْفِرُ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَلْحَدُ فَبَعَثُوا إِلَيْهِمَا رَسُولَيْنِ وَقَالُوا اللَّهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ فَوَجَدُوا أَبَا طَلْحَةَ فَجِيءَ بِهِ وَلَمْ يُوجَدْ أَبُو عُبَيْدَةَ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَالًا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا الصِّبْيَانَ وَلَمْ يَؤُمَّ النَّاسَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ لَقَدْ اخْتَلَفَ الْمُسْلِمُونَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُحْفَرُ لَهُ فَقَالَ قَائِلُونَ يُدْفَنُ فِي مَسْجِدِهِ وَقَالَ قَائِلُونَ يُدْفَنُ مَعَ أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ قَالَ فَرَفَعُوا فِرَاشَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ عَلَيْهِ فَحَفَرُوا لَهُ ثُمَّ دُفِنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ اللَّيْلِ مِنْ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ وَنَزَلَ فِي حُفْرَتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَقُثَمُ أَخُوهُ وَشُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ وَهُوَ أَبُو لَيْلَى لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنْشُدُكَ اللَّهَ وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ انْزِلْ وَكَانَ شُقْرَانُ مَوْلَاهُ أَخَذَ قَطِيفَةً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَدَفَنَهَا فِي الْقَبْرِ وَقَالَ وَاللَّهِ لَا يَلْبَسُهَا أَحَدٌ بَعْدَكَ أَبَدًا فَدُفِنَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 1628

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب: رسول اللہ ﷺ کی وفات اور آپ کے دفن کا بیان عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا: جب صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ کے لیے قبر تیار کرنے کا ارادہ کیا تو ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو پیغام بھیجا، وہ مکہ والوں کے رواج کے مطابق صندوقی( شق والی ) قبر بناتے تھے۔ اور ابو طلحہ ؓ کو بھی پیغام بھیجا ،وہ مدینہ والوں کی قبریں تیار کیا کرتے تھے اور بغلی (لحد والی) قبر بناتے تھے۔ صحابہ کرام ؓم نے ان دونوں حضرات کی طرف دو( الگ الگ) آدمیوں کو بھیجا اور کہا: اے اللہ! اپنے رسول ﷺ کے لئے بہتر صورت مہیا فرما۔ ابو طلحہ مل گئے، انہیں ( قبر تیار کرنے کے لئے) لے آیا گیا۔ ابو عبیدہ (گھر پر) نہ ملے۔چنانچہ ابو طلحہ نے نبی ﷺ کے لئے بغلی( لحد والی) قبر تیار کی۔ منگل کے دن جب رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تکفین سے فراغ ہوئی تو آپ ﷺ ( کے جسد مبارک ) کو آپ کے حجرہٴ مبارک میں آپ کی چار پائی پر لٹا دیا گہا۔ لوگ گروہ در گرو اندر داخل ہوتے تھے اور نماز جنازہ ادا کرتے۔ جب مرد فارغ ہوگئے تو خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ جب ان سے فراغت ہوئی تو بچوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ رسول اللہ ﷺ کی نماز جنازہ کے لیے کسی نے لوگوں کی امامت نہیں کی۔ (اس کے بعد) مسلمانوں میں اس معاملے میں اختلاف رائے پیش آیا کے رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کہاں تیار کی جائے ۔ کچھ حضرات نے کہا: نبی ﷺ کو مسجد نبوی میں دفن کیا جائے۔ کچھ حضرات نے کہا نبی ﷺ کو اپنے صحابہ کے ساتھ( بقیع کے قبرستان میں) دفن کیا جائے۔ ابو بکر ؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرمان سنا ہے: ‘‘جو بھی نبی فوت ہوا، وہ جہاں فوت ہوا، وہیں دفن ہوا۔ ’’ چنانچہ صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کا بستر اٹھایا جس پر آپ کی وفات ہوئی تھی اور( اس مقام پر) نبی ﷺ کی قبر مبارک تیار کی، پھر بدھ کی رات، آدھی رات کے وقت آپ ﷺ کی تدفین عمل میں آئی۔ علی بن ابی طالب ؓ فضل بن عباس ؓ ان کے بھائی قثم اور رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام شقران رضی اللہ قبر میں اترے۔ ابو لیلیٰ اوس بن خولی نے علی ؓ سے کہا: آپ کو اللہ کا واسطہ اور رسول اللہ ﷺ سے ہمارے تعلق کا واسطہ! علی ؓ نے فرمایا: آپ بھی( قبر میں) اتر آئیں۔ شقران مولیٰ رسول اللہ ﷺ کے پاس وہ چادر تھی جو رسول اللہ ﷺ اوڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے وہ چادر بھی قبر میں دفن کر دیا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ کے بعد یہ چادر کبھی کوئی دوسرا شخص استعمال نہیں کرے گا، چنانچہ وہ چادر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی دفن ہوئی۔ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔اور مذید لکھا ہے کہ اس ر وایت میں صرف یہ جملہ (ما قبض نبي الا دفن حيث يقبض) جو بھی نبی فوت ہوا۔وہ جہاں فوت ہوا وہیں دفن ہوا صحیح ہے کیونکہ جامع ترمذی (1018)اور ابن سعد (2/292)وغیرہ میں اس کے بہت سے شواہد ہیں۔جنھیں محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔لہذا مذکورہ روایت میں صرف یہی جملہ صحیح ہے۔تاہم نبی ﷺ کی وفات اور تدفین کا صحیح واقعہ حدیث 1557۔1558۔میں گزر چکا ہے۔وہاں ملاحظہ فرمایئں۔