Book - حدیث 1625

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِﷺ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ سَفِينَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى مَا يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ

ترجمہ Book - حدیث 1625

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب: رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات کا بیان ام المومنین ام سلمہ ؓا سے روایت ہے کہ جس مرض میں رسول اللہ ﷺ نے انتقام فرمایا، اس کے دوران میں آپ فرمایا کرتےتھے: ’’نماز( کی حفاظت کرو)اور( ان لونڈی غلاموں کی) جو تمہارے ہاتھوں کی ملکیت ہیں۔ ‘‘ آپ نے یہ الفاظ باربار فرمائے حتی کہ آپ کی زبان مبارک رک گئی۔ 1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔اور انھی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے۔(الموسوعۃ الحدیثیہ مسند الامام احمد 44/261 والاارواء 7/238 وسنن ابن ماجہ للدکتور5 بشار عواد حدیث 1625)رسول اللہﷺ نے زندگی کے آخری لمحات میں جو نصیحت فرمائی۔وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں سے تعلق رکھتی ہے۔اسلا م میں یہ دونوں پہلو انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔3۔حقوق اللہ میں نماز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جسے مسلمان اور کافر کے درمیان پہچان قرار دیا گیا ہے۔اور اس کے ترک کو کفر وشرک قرار دیا گیا ہے۔اللہ کے ر سولﷺ نے فرمایا۔(ان بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة)(صحیح مسلم الایمان باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ حدیث 82) بے شک انسان کے درمیان اور شرک وکفر کے درمیان ترک نماز کا معاملہ ہے۔ یعنی ترک نماز کفر سے ملا دیتا ہے۔4۔حقوق العباد میں غلاموں کا زکر فرمایا کیونکہ غلام معاشرے کا مظلوم طبقہ تھاجسے اسلام نے بہت سے حقوق دے کر ان کا درجہ بلند کردیا۔انھیں آقائوں کے بھائی قرار دیا۔ارشاد نبوی ﷺ ہے۔ تمھارے خادم تمھارے بھائی ہیں۔جس کا بھائی اس کے زیردست ہو تو اسے چاہیے کہ جو خود کھائے اسے کھلائے جو خود پہنے اسے پہنائے۔(صحیح البخاری الایمان باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔حدیث 30)آجکل کے ذاتی ملازم اور زمین داروں کے مزارع اگرچہ شرعاً اور عرفاً غلام نہیں تاہم جس طرح وہ حالات کی وجہ سے اپنے آقائوں کی سختیاں برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔اس کو دیکھتے ہوئے رسول للہﷺ کی وصیت ان کے بارے میں بھی سمجھی جاسکتی ہے۔