Book - حدیث 1606

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ أُصِيبَ بِوَلَدِهِ ضعیف حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنْ النَّارِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ قَالَ وَاثْنَيْنِ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ قَدَّمْتُ وَاحِدًا قَالَ وَوَاحِدًا

ترجمہ Book - حدیث 1606

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب: جس کی اولا د فو ت ہو جائےاس کے ثواب کا بیان عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے تین بچے آگے بھیجے جو گناہ کی عمر کو نہ پہنچے ہوں ، وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کے لیے ایک مضبوط رکاوٹ بن جائیں گے۔ ‘‘ ابو ذر ؓ نے عرض کیا: میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ اور دو بھی( جہنم سے حفاظت کا باعث بن جائیں گے) قُرّاء کے سردار ابی بن کعب ؓ نے فرمایا: میں نے ایک بچہ آگے بھیجا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اور ایک بھی (جہنم سے بچاؤ کا باعث ہوگا۔)‘‘ صحیحین میں تین یا دو بچوں کی وفات پر جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔رسول اللہﷺ نے (عورتوں سے) فرمایا تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیج دے۔(وہ فوت ہوجایئں)تو وہ اس کےلئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جایئں گے۔ ایک عورت نے کہا اور دو بچے؟(کیا ان کی وفات پر صبر کی بھی یہی فضیلت ہے۔)رسول اللہ ﷺنے فرمایا دو بچے بھی (آگے بھیجنے والی کےلئے یہی بشارت ہے) (صحیح البخاری الجنائز باب فضل من مات لہ ولد فاحتسب حدیث 1249 وصحیح مسلم البر والصلۃ والادب باب فضل من یموت لہ ولد فیحتسبہ حدیث 2632)اور بعض حسن روایات میں ایک بچے پر بھی جنت کی بشارت ہے۔بشرط یہ کہ ایمان واحتساب ساتھ ہو۔دیکھئے۔(الصحیحۃ 3/398 رقم 1408) اس لئے یہ روایت بھی معنا ًصحیح ہے۔