Book - حدیث 159

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ فَضْلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي، وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا»

ترجمہ Book - حدیث 159

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: حضرت جریر بن عبداللہ بجلی کے فضائل حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سے میں نے اسلام قبول کیا، اللہ کے رسول ﷺ نے کبھی حاضر خدمت ہونے سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی مجھے دیکھا، میرے روبرو مسکرائے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا:’’ اے اللہ! اسے ثابت قدمی نصیب فر اور اسے ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا دے۔‘‘ (1) حضرت جریر رضی اللہ عنہ دراز قد، خوبصورت اور خوش شکل تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں اس امت کا یوسف کہا کرتے تھے۔ (2) حاضر ہونے سے منع نہیں فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما ہتے تھے یا کسی خاص مجلس میں رونق افروز ہوتے تھے اگر میں حاضری کی اجازت چاہتا تو مجھے ضرور اجازت مل جاتی تھی۔ کبھی حاضری سے منع نہیں کیا گیا، یعنی حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی قرب حاصل تھا۔ (3) ملاقات کے وقت مسکرانا خوشی کا مظہر ہے، جو محبت کی علامت ہے کیونکہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کی ملاقات سے خوشی ہوتی ہے، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خلقی اور خندہ پیشانی ی عادتِ مبارکہ بھی معلوم ہوتی ہے۔ (4) گھوڑ سواری ایک فن ہے کس کا حصول ایک مجاہد کے لیے بہت ضروری ہے، حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو یہ شکایت تھی کہ گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتے تھے، گرنے کا خطرہ محسوس کرتے تھے، اس لیے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی۔ کسی بزرگ ہستی کو اپنی کسی کمزوری سے آگاہ کرنا درست ہے تاکہ کوئی مناسب مشورہ حاصل ہو یا دعا ہی مل جائے۔ (5) جب کسی بزرگ سے دعا کی درخواست کی جائے تو اسے چاہیے کہ دعا کر دے، انکار نہ کرے۔