Book - حدیث 1571

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ ضعیف حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا؛ فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ»

ترجمہ Book - حدیث 1571

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : قبروں کی زیارت کا بیان عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، (اب) ان کی زیارت کیا کروکیوں کہ وہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘ 1۔مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ (فانها تزهد في الدنيا)کے سوا باقی حدیث کے شواہد صحیح مسلم میں ہیں جیسا کہ پہلا جملہ صحیح مسلم کی حدیث میں موجود ہے۔جس کے الفاظ یہ ہیں۔ میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔ تو ان کی زیارت کیا کرو۔اور میں نے تمھیں قربانی کاگوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا۔اب جب تک چاہو رکھ سکتے ہو۔۔۔الخ (صحیح مسلم الاضاحی۔باب بیان ماکان من النھی عن اکل لحوم الاضاحی بعد ثلاث فی اول الاسلام وبیان نسخہ اباحتہ الی متی شاء حدیث 1976)زیارت قبور کی حکمت بھی دوسری صحیح حدیث میں وارد ہے۔جیسے حدیث 1572 میں آرہا ہے۔ قبروں کی زیارت کرو یہ تمھیں موت کی یاد دلاتی ہے۔ یہ جملہ بھی صحیح مسلم کی ایک حدیث میں وار دہے۔دیکھئے۔(صحیح المسلم الجنائز باب الستئذان النبی ﷺ ربہ عزوجل فی زیارۃ قبر امہ حدیث 976)لہذا مذکورہ روایت (فانها تزهد في الدنيا)جملے کے سو ا شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔2۔جس طرح قرآن مجید کی بعض آیات سے پہلے سے نازل شدہ بعض آیات میں مذکور حکم منسوخ ہوجاتا ہے۔اسی طرح ایک حدیث سے بھی سابقہ حدیث مسنوخ ہوسکتی ہے۔جیسے کہ اس روایت میں صراحت موجود ہے۔3۔دنیا میں جائز طریقے سے رزق کمانا اور فخر وتکبر کے بغیر فضول خرچی نہ کرتے ہوئے اپنی ذات پر اور اہل خانہ پر خرچ کرنا جائز ہے۔لیکن دولت کی ہوس اور عیش وآرام میں انہماک انسان کو آخرت سے غافل کردیتا ہے ۔دل کی اس کیفیت کا علاج کرنے کے لئے قبرستان میں جاناچاہییے۔تاکہ اپنی موت یادآئے۔اور اگلے جہاں کے لئے تیاری کرنے کی رغبت پیدا ہو۔