Book - حدیث 1551

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ ضعیف حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: «سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا، وَرَشَّ عَلَى قَبْرِهِ مَاءً»

ترجمہ Book - حدیث 1551

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : میت کو قبر میں اتارنے کا بیان ابو رافع ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ ؓ کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا۔ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔تاہم اس مسئلے کی بابت ایک روایت سنن ابی دائود میں مروی ہے جسے محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔اس میں ہے کہ حارث اعور نے وصیت کی کہ حضرت عبد اللہ بن یزید حطمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی نماز جنازہ پڑھایئں۔چنانچہ انھوں نے جنازہ پڑھایا پھر انہیں پائنتی کی طرف سے قبر میں اُتارا اور فرمایا یہ سنت ہے۔(سنن ابی دائود الجنائز ۔باب کیف یدخل المیت قبرہ حدیث 3211)اسے امام بیہقیرحمۃ اللہ علیہ اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اورشیخ علی زئی نے صحیح قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں کسی صحابی کا کسی عمل کو سنت کہنے سے رسول اللہ ﷺ کی سنت مرُاد ہوتی ہے۔اور اسے اصطلاحا ً مرفوعاً حکمی کہتے ہیں۔نیز پانی چھڑکنے کا زکر ہمیں کسی صحیح حدیث سے نہیں مل سکا۔واللہ اعلم۔