Book - حدیث 1549

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ فِي الْمَقَابِرِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ «فَجَلَسَ، وَجَلَسْنَا، كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ»

ترجمہ Book - حدیث 1549

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : قبرستان میں بیٹھنا براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم ایک جنازے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے۔ ہم قبرتک پہنچے تو آپ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی( بڑی خاموشی سے) بیٹھ گئے۔ گویا ہمارے سروں پر پرندے ہیں۔ 1۔ صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین نبی اکرم ﷺ کا انتہائی احترام کرتے تھے۔اس لئے آپ ﷺ کی موجودگی میں بلا ضرورت بات نہیں کرتے تھے۔2۔قبرستان میں فضول باتیں کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔3۔سروں پر پرندے ہونے کا مطلب بہت زیادہ خاموشی سے بیٹھنا ہے۔ جیسے اگر کسی کے سر پر پرند بیٹھ جائے اور وہ اسے پکڑنا چاہتا ہو تو وہ خاموش ہوکر بیٹھتا ہے۔ اور غیر محسوس طریقے سے حرکت کرتا ہے۔تاکہ پرندہ اڑ نہ جائے۔