Book - حدیث 1542

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ»

ترجمہ Book - حدیث 1542

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : جنازہ آتا دیکھ کر کھڑے ہونا عبداللہ بن عمر ؓ نے عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت بیان کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ حتی کہ وہ آگے گزر جائے یا( زمین پر) رکھ دیا جائے۔‘‘ 1۔جب کوئی شخص راستے میں بیٹھا ہو۔اور جنازہ آجائے تو اسے چاہیے کہ کھڑا ہوجائے۔جب جنازہ گزر جائے تو بیٹھ جائے۔2۔حضرت عبد اللہ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عمل کو منسوخ قرار دیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ بعض اوقات کھڑے نہیں ہوئے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔(سنن ابن ماجہ حدیث 1544)لیکن ان دونوں احادیث کو اس طرح بھی جمع کیا جاسکتا ہے کہ کھڑا ہوناواجب قرار نہ دیا جائے۔بلکہ اسے مستحب (بہتر) کہا جائے۔3۔جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے میں کیا حکمت ہے؟ حدیث میں اس کے دو اسباب زکر ہوئے ہیں۔ایک یہ کہ موت ایک ایسی چیزہے۔جس کی وجہ سے انسان غمگین اور پریشان ہوتا ہے۔اور آخرت کی یاد سے دل پو رخوف طاری ہوتا ہے۔اس کے اظہار کےلئے جنازہ دیکھ کرکھڑے ہونا چاہیے۔(سنن ابن ماجہ حدیث 1543)دوسری وجہ ان فرشتوں کا احترام ہے جو جنازے کے ساتھ ہوتے ہیں۔سنن نسائی میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔کہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا میں فرشتوں کی وجہ سے کھڑا ہوں (سنن نسائی الجنائز باب الرخصۃ فی ترک القیام حدیث 1931)4۔جولوگ جنازے کے ساتھ ہوں۔وہ اس وقت تک نہ بیٹھیں جب تک چارپائی زمین پر نہ رکھ دی جائے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجائو۔جو اس(جنازے)کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے حتیٰ کہ(چارپائی کو زمین پر) رکھ دیا جائے (صحیح البخاری الجنائز باب من تبع جنازۃ فلا یقعد حتی توضع عن مناکب الرجال فان قعد امر بالقیام حدیث 1310)