Book - حدیث 1514

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، وَالثَّلَاثَةِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: «أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟» فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمْ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا»

ترجمہ Book - حدیث 1514

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : شہداء کے جنازے اور تدفین کا بیان جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین آدمیوں کو ایک ہی کپڑے سے ڈھانپ دیتے تھے، پھر فرماتے: ’’ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد ہے؟ ‘‘جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو لحد میں اسے آگے رکھتے اور فرمایا: ’’میں ان کے حق میں گواہ ہوں۔ ‘‘ نبی ﷺ نے انہیں ان کے خون میں غلطاں ہی دفن کرنے کا حکم دیا، نہ ان کا جنازہ پڑھا نہ انہیں غسل دیاگیا۔ 1۔مذکورہ روایت ان لوگوں کی دلیل ہے۔جو شہید کی نماز جنازہ پڑھنے کے قائل نہیں ہیں۔لیکن بعض روایات سے نماز جنازہ پڑھنے کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے۔جیسا کہ گزشتہ روایات میں مذکور ہے اس لئے اس مسئلے میں توسع ہے۔تاہم نماز جنازہ پڑھنا بھی علماء کے نزدیک مستحب ہے۔جیسا کہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے۔کیونکہ نماز جنازہ دعا اور عبادت ہے۔لیکن اس استحباب پر شہید کی نماز جنازہ پڑھنے کو اشتہار بازی اور دنیاوی اغراض ومقاصد کے زریعہ بنا لینا کوئی پسندیدہ امر نہیں ہے ۔اس طریقے سے تو اس کا جواز اور استحباب بھی محل نظر ہوجاتا ہے۔2۔خاص حالات میں ایک سے زیادہ افراد کو ایک قبر میں دفن کرنا جائز ہے۔3۔حفظ قرآن ایک شرف ہے۔جس کا خیال دفن کرتے ہوئے بھی رکھا جانا چاہیے۔