Book - حدیث 1507

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الطِّفْلِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي جُبَيْرُ بْنُ حَيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ»

ترجمہ Book - حدیث 1507

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : بچے کی نماز جنازہ کا بیان مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔‘‘ 1۔سنن ابو دائود کی روایت میں یہ حدیث ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔نا تمام بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے۔اور اس کے والدین کےلئے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے۔ (سنن ابی دائود الجنائز۔باب المشئی امام الجنازۃ حدیث 3180)2۔مردہ پیدا ہونے والے بچے کی نما ز جنازہ اس صورت میں پڑھی چاہیے۔جبکہ وہ حمل کے چار ماہ پورے ہونے پر یااس کے بعد پیدا ہوا ہو۔کیونکہ جنین میں اس وقت روح ڈالی جاتی ہے۔لہذا اس کے بعد پیدا ہونےوالے ہی کو میت قراردیا جاسکتا ہے۔