Book - حدیث 1505

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ كَبَّرَ خَمْسًا صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ «يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا» فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا»

ترجمہ Book - حدیث 1505

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہنا عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: زید بن ارقم ؓ ہم لوگوں کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے۔ ایک جنازہ میں انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں۔ میں نے (اس کے متعلق) سوال کیا تو فرمایا: رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح (پانچ تکبیریں) کہا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پانچ تکبیریں بھی جائز ہیں۔اس صورت میں میت کے لئے کچھ دعایئں تیسری تکبیر کے بعد پڑھ لی جایئں کچھ چوتھی تکبیر کے بعد اس کے بعد پانچویں تکبیر کہہ کرسلام پھیر دیا جائے۔