Book - حدیث 1487

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِنَازَةِ، لَا تُؤَخَّرُ إِذَا حَضَرَتْ، وَلَا تُتْبَعُ بِنَارٍ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ قَالَ: أَوْصَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَقَالَ: لَا تُتْبِعُونِي بِمِجْمَرٍ، قَالُوا لَهُ: أَوَسَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 1487

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : جب جنازہ تیار ہو جائے تو ( نماز جنازہ کی ادائیگی اور دفن میں) دیر نہ کی جائے اور جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جائی جائے ابو بردہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ابو موسیٰ اشعری ؓ کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: میرے ساتھ ( خوشبو سلگانے والی) انگیٹھی نہ لے جانا۔ حاضرین نے کہا: کیا آپ نے اس مسئلہ میں کوئی حدیث سنی ہے؟ فرمایا: ہاں، اللہ کے رسول ﷺ سے سنی ہے۔ 1۔ہندو اور مجوسی آگ کو مقدس سمجھتے ہیں۔اس لئے ان کےہاں خوشی اور غمی کی رسموں میں آگ کااستعمال ہوتا ہے۔ہندو مردے کو دفن کرنے کی بجائے آگ میں جلاتے ہیں میت کے ساتھ آگ لے جانے میں ان غیر مسلموں سے ایک طرح مشابہت ہوتی ہے۔2۔ا س سے قبروں پر چراغ جلانے کی ممانعت بھی ظاہر ہوتی ہے۔جب جنازے کے ساتھ آگ لے جانا منع ہے تو دفن کے بعد قبر پر آگ رکھنا بالاولیٰ منع ہوگا۔اس کے علاوہ چراغ جلانے میں مال کا ضیاع ہے جو حرام ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے قبروں پر چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔(جامع ترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی کراھیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدا حدیث 320)امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے علامہ احمد محمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی حکم لگایا ہے۔