Book - حدیث 1464

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَغَسْلِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ»

ترجمہ Book - حدیث 1464

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : خاوند کا بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا عائشہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: اگر مجھے پہلے وہ خیال آجاتا جو بعدمیں آیا تو نبی ﷺ کو ازواج مطہرات ہی غسل دیتیں۔ خاوند اور بیوی کا باہمی تعلق ایسا ہے۔جو کسی اور کا نہیں۔او ر ان کا ایک دوسرے سے جسم کے کسی حصہ کا پردہ بھی نہیں۔اس لئے سب سے زیادہ انہی کا حق ہے۔کہ ایک دوسرے کوغسل دیں۔اس میں ان لوگوں کا رد بھی ہے۔جو کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد خاوند بیوی ایک دوسرے کا نہ چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔