Book - حدیث 1460

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ ضعیف جداً حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ، وَلَا مَيِّتٍ»

ترجمہ Book - حدیث 1460

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : میت کو غسل دینے کا بیان علی ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’اپنی ران ظاہر نہ کرو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو۔‘‘ 1۔ٹانگ کا گھٹنے سےاوپر کا حصہ فخد (ران) کہلاتاہے۔اور اس سے متعلق یہ (1460)روایت ضعیف ہے۔اسی لئے اس کے متعلق علماء میں اختلاف ہے۔کہ یہ ستر میں شامل ہے یا نہیں اور کسی کی ران کو دیکھنا شرعا جائز ہے یا ممنوع۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کارجحان اس طرف معلوم ہوتا ہے۔کہ یہ ستر میں شامل تو نہیں تاہم اسے چھپانا افضل ہے۔اس کے بارے میں اما م بخاریرحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کاترجمہ یہ ہے۔ ابن عباس جرہد اور محمد بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ران ستر ہے۔اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نبی کریمﷺنے اپنی ران سے کپڑاہٹا دیا۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سند کے لہاظ سے زیادہ قوی ہے۔اور حضرت جرحد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔تاکہ علماء کے اختلاف سے نکل جایئں ۔۔۔(صحیح البخاری الصلاۃ باب مایذکر فی الفخذ قبل حدیث 371)علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے احکام الجنائز میں ران کے ستر ہونے کو ترجیح دی ہے۔امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (ان الفخذ عورۃ) ران ستر ہے والی حدیث کو حسن قرار دیاہے۔(جامع ترمذی الادب باب ما جاء ان الفخذ عورۃ حدیث 2795)