Book - حدیث 145

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ فَضْلُ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍؓ ضعیف حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلِيٍّ، وَفَاطِمَةَ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ،: «أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ، وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ»

ترجمہ Book - حدیث 145

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: حضرت حسن اور حضرت حسین بن علیؓ کے فضائل حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرات علی، فاطمہ، حسن اور حسین ؓم سے فرمایا:’’ جس سے تم صلح کرو، میری بھی اس سے صلح ہے اور جس سے تم جنگ کرو، اس سے میری بھی جنگ ہے۔‘‘ اس قسم کی روایات سے ان صحابہ و تابعین کی مذمت پر استدلال کیا جاتا ہے، جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا مبینہ طور پر یا واقعتا اختلاف ہوا، حالانکہ اول تو یہ روایت ہی ضعیف ہے۔ ثانیا اگر غور کیا جائے تو اس سے ان لوگوں کی مذمت نکلتی ہے جنہوں نے علی رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت اور ان کی اطاعت و نصرت کا دعوی کیا اور پھر ان سے غداری کر کے انہیں شہید کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک خارجی کے ہاتھ سے ہوئی اور خوارج شروع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پارٹی میں شامل تھے، بعد میں مخالف ہوئے۔ اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ بلانے والے اور بعد میں انہیں شہید کرنے والے بھی وہی تھے جو ان سے محبت کا دعویٰ رکھتے تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی۔ اس روایت کی روشنی میں معاویہ رضی اللہ عنہ مخالفین میں سے خارج ہو گئے، لہذا ان پر طعن کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔