Book - حدیث 1448

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ إِذَا حُضِرَ ضعیف حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، - وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَءُوهَا عِنْدَ مَوْتَاكُمْ، يَعْنِي يس»

ترجمہ Book - حدیث 1448

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل باب : قریب الوفات بیمار کے پاس کیا کہا جائے ؟ معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورہٴ یٰسٓ کے بارے میں فرمایا: ’’اسے اپنے فوت ہونے والوں کے پاس پڑھا کرو۔‘‘ مذکورہ روایت ضعیف ہے۔اس لئے قریب المرگ شخص پر سورۃ یسٰ پڑھنے کا رواج صحیح نہیں ہے اس کی بجائے اس کے لئے دعا کی جائے۔کہ یا اللہ ا س کے لئے اس دشوار مرحلہ کو آسان فرمادے۔