Book - حدیث 144

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ فَضْلُ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍؓ حسن حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ، وَبَسَطَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهُ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ، وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي، وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ»حدثنا علي بن محمد. حدثنا وكيع عن سفيان مثله

ترجمہ Book - حدیث 144

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: حضرت حسن اور حضرت حسین بن علیؓ کے فضائل حضرت یعلی بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہٴ کرام کو کھانے کی دعوت دی گئی تھی۔ وہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ وہاں جانے کے لئے روانہ ہوئے، دیکھا تو گلی میں حسین ؓ کھیل رہے تھے۔ نبی ﷺ نے دوسروں سے آگے بڑھ کر( حسین ؓ کو پکڑنے کے لئے ) ہاتھ پھیلا دیے۔ وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ نبی ﷺ انہیں ہنساتے رہے۔ آخر انہیں پکڑ لیا۔ آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا، اور دوسرا ہاتھ ان کے سر کے پچھلے حصے پر رکھا اور انہیں چوم لیا۔ پھر فرمایا:’’ حسن مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، جو حسین سے محبت کرے، اللہ اس سے محبت کرے اور حسین اسباط میں سے ایک سبط ہیں۔‘‘ امام ابن ماحہ ؓ نے کہا ہمیں علی بن محمد نے وکیع سے انہوں نے سفیان سے سابقہ روایت کی مثل بیان کیا- (1) اگر کوئی کھانے کی دعوت دے تو قبول کرنا مسنون ہے۔ (2) چھوٹے بچے گلی میں کھیلیں تو جائز ہے۔ (3) اظہار محبت کے لیے بچے کو تھامنا، چہرے کو بوسا دینا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (4) سبط کے معنی نواسہ ہیں مگر اس کا اطلاق قبیلے پر بھی ہوتا ہے۔ اس سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ اکیلے ہی ایک قبیلے کی سی شان کے حامل ہیں۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اکیلے ہی ایک امت کی سی شان رکھتے ہیں۔ (النحل:120)