Book - حدیث 1432

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي أَيْنَ تُوضَعُ النَّعْلُ إِذَا خُلِعَتْ فِي الصَّلَاةِ ضعیف جداً حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْزِمْ نَعْلَيْكَ قَدَمَيْكَ، فَإِنْ خَلَعْتَهُمَا فَاجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْكَ، وَلَا تَجْعَلْهُمَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَا عَنْ يَمِينِ صَاحِبِكَ، وَلَا وَرَاءَكَ، فَتُؤْذِيَ مَنْ خَلْفَكَ»

ترجمہ Book - حدیث 1432

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: نماز پڑھتے وقت اگر جوتے اتارے جائیں تو کہاں رکھے جائیں؟ ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنے جوتے اپنے پاؤں میں رکھو( پہنے رہو۔) اگر انہیں اتارو تو اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھو۔ انہیں اپنی دائیں طرف نہ رکھنا۔ نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھنا نہ اپنے پیچھے رکھنا کہ اپنے پیچھے والے( نمازی) کو تکلیف دو۔‘‘ 1۔اس سند کے ساتھ تو یہ روایت ضعیف ہے۔تاہم صحیح ابن خزیمہ میں یہ حدیث ان الفاظ میں وارد ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جب کوئی شخص نماز پڑھے۔تواپنے جوتے اپنے دایئں طرف نہ رکھے۔نہ اپنے بایئں طرف رکھے۔اس حال کے کہ اس کے بایئں طرف کوئی نہ ہو۔(نمازی کو) چاہیے کہ انھیں اپنے دونوں پائوں کے درمیان رکھ لے۔ (صحیح ابن خذیمہ الصلاۃ جماع ابواب الصلاۃ علی البسط باب الزکر الزجر عن وضع المصلی نعلیہ عن یسارہ اذا کان عن یسارہ مصل۔۔۔)اس پر علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ اس کی سند حسن ہے۔جیسے کہ میں نے صحیح ابو دائود حدیث (661) میں بیان کیا ہے۔اور اس سے پہلی والی روایت (1009) کی سند کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ حاشیہ حدیث 1016) یعنی شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے وہاں اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔2۔جوتے بایئں طرف رکھنا اس وقت منع ہیں۔جب بایئں طرف کوئی نمازی موجود ہو۔اس صورت میں وہ اس نمازی کی دایئں طرف ہوجایئں گے۔3۔جوتے پیچھے رکھنا جائز ہے۔لیکن اگر پیچھے کوئی اور شخص نماز پڑھ رہا ہو تو یہ جوتے اس کےلئے اذیت کا باعث ہوں گے۔اس صورت میں اپنے پیچھے نہ رکھے۔ہاں ایسی جگہ رکھ سکتا ہے۔جہاں وہ کسی دوسرے نمازی کے دایئں طرف نہ ہوں۔یعنی بالکل پیچھے یا بالکل بایئں طرف رکھے۔4۔بعض علماء نے لکھا ہے کہ جب دایئں طرف جوتے رکھنا ممنوع ہے تو نمازی کااپنے آگے جوتارکھنا بطریق اولیٰ ممنوع ہوگا لیکن یہ استدلال اس لئے صحیح معلوم نہیں ہوتا۔کہ جب ایک شخص جوتوں سمیت نماز پڑھے گا۔(جو کہ ایک جائز امر ہے۔)تو اس صورت میں بھی تو جوتے دوسرے نمازی کے آگے ہی ہوں گے۔اس لئے محض جوتوں کے آگے ہونے کو تو ممنوع نہیں سمجھا جاسکتا۔ممانعت کی واضح نص ہونی چاہیے۔جو کہ ہمارے علم کی حد تک نہیں ہے۔دوسرا استدلال معجم صغیر طبرانی کی اس روایت کیا جاتاہے۔ جس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے۔ جب تمھارا کوئی شخص جوتے اتارے توانھیں اپنے سامنے نہ رکھے۔تاکہ جوتوں کی اقتداء لازم نہ آئے۔۔۔۔ (الحدیث)لیکن شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ضعیف ہی نہیں۔ سخت ضعیف قرار دیا ہے۔دیکھئے۔(الضعیفۃ حدیث 986)اس لئے اس حدیث سے بھی استدلال صحیح نہیں۔اس اعتبار سے نمازی کے آگے جوتے ہونے یا رکھنے کی ممانعت کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے زیادہ سے زیادہ نمازی کے آگے جوتے رکھنے کو خلاف ادب تصور کرکے اس سے بچنے کو بہتر قرار دیا جاسکتا ہے۔واللہ اعلم۔