Book - حدیث 1415

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَحَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ: «لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

ترجمہ Book - حدیث 1415

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: سب سے پہلے منبر کیسے بنا ؟ عبداللہ بن عباس اور انس ؓم سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے ۔جب رسول اللہ ﷺ نے منبر بنوایا تو آپ منبر کی طرف چلے۔ تنا( ستون) روپڑا۔ نبی ﷺ اس کے پاس آئے اور اسے سینے سے لگایا، تب وہ خاموش ہوا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر میں اسے گلے سے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔‘‘