Book - حدیث 1367

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ نِصْفُهُ أَوْ ثُلُثَاهُ قَالَ لَا يَسْأَلَنَّ عِبَادِي غَيْرِي مَنْ يَدْعُنِي أَسْتَجِبْ لَهُ مَنْ يَسْأَلْنِي أُعْطِهِ مَنْ يَسْتَغْفِرْنِي أَغْفِرْ لَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ

ترجمہ Book - حدیث 1367

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: رات کو کونسی گھڑی زیادہ فضیلت والی ہے؟ رفاعہ ( بن عرابہ) جہنی ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے حتی کہ جب آدھی یا دو تہائی رات گزر جاتی ہے تو فرماتا ہے: میرے بندوں کو میرے سوا کسی سے ہر گز نہیں مانگنا چاہیے۔ جو مجھے پکارے گا، میں اس کی دعا قبول کروں گا۔ جو مجھ سے مانگے گا میں اسے دوں گا۔‘‘ (یہ کیفیت مسلسل جاری رہتی ہے حتی کہ صبح صادق طلوع ہوجاتی ہے۔‘‘ 1۔ مہلت دینے کا مطلب یہ ہے کہ بندوں کوسونے اور آرام کرنے کاوقت دیتا ہے بندوں سے چوبیس گھنٹے عبادت میں مشغول رہنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔یا یہ مطلب ہے کہ حدیث میں مذکور ندا ایک خاص وقت کے بعد شروع ہوتی ہے۔2۔آدھی رات یا تہائی رات باقی ہوتو اٹھ کر تہجد پڑھنا اور دعا کرنا ابتدائی رات میں تہجد پڑھنے اور دعا کرنے سے افضل ہے۔البتہ جس شخص کو یہ خطرہ ہو وہ افضل وقت میں بیدار نہیں ہوسکے گا۔وہ عشاء کے بعد ہی تہجد وغیرہ ادا کرسکتا ہے۔تاکہ ثواب سے بالکل محروم نہ رہ جائے۔3۔بندوں کو اپنی اُمید اور خوف کامرکز صرف اللہ کی ذات کو بنانا چاہیے۔کیونکہ جو راحت یا تکلیف مخلوق کے ہاتھ سے پہنچتی ہے۔وہ بھی اللہ کی رحمت اور حکمت کی بنیاد پر اسی کے حکم سے پہنچتی ہے۔4۔رات کی نفلی عبادت دن کی نفلی عبادت سےافضل ہے۔