Book - حدیث 1342

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابٌ فِي حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ الْيَامِيَّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ

ترجمہ Book - حدیث 1342

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: خوبصورت آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کرنا براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ مزین کرو۔‘‘ 1۔قرآن مجید کو اچھی آواز کے ساتھ تلاوت کرنا چاہیے۔2۔قرآن کی اچھے طریقے سے تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ حروف کوصحیح مخارج سے ادا کیا جائے۔اعراب اور مد وغیرہ کی غلطی سے اجتناب کیاجائے۔معنی اور مفہوم کو پیش نظر رکھ کر متناسب زیرو بم سے تلاوت کی جائے۔موسیقی کو اصولوں کو قرآن پر لاگو کرنے کی کوشش کرنا درست نہیں۔نہ آوازکے ساتھ قرآن کو مزین کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ تلاوت قرآن میں ساز وموسیقی کے اصول استعمال کیے جایئں۔