Book - حدیث 1291

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ الْعِيدَ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا

ترجمہ Book - حدیث 1291

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: نماز عید سے پہلے یا بعد میں نفل نماز عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ باہر ( میدان میں) تشریف لے گئے اور لوگوں کو نماز عید پڑھائی۔ اس سے پہلے یا بعد میں کوئی( نفل) نماز ادا نہیں کی۔ جس طرح فرض نماز سے پہلے اور بعد میں نفل نمازیں ہیں۔جنھیں سنت موکدہ یاغیر موکدہ کہا جاتا ہے۔نماز عید کے ساتھ اس قسم کی کوئی نماز مسنون نہیں۔اس موقع پر ایسی کوئی نماز نہ پڑھنا ہی سنت ہے