Book - حدیث 1265

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ صحیح حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْكُسُوفِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ لَقَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ نَافِعٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَرَأَيْتُ امْرَأَةً تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ لَهَا فَقُلْتُ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ الْأَرْضِ

ترجمہ Book - حدیث 1265

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: سورج گرہن کی نماز سیدہ اسماء بنت ابو بکر ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی ،آپ کھڑے ہوئے اور طویل قیام فرمایا، پھر رکوع کیا تو بہت طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا (اور قومہ کیا) پھر سجدہ کیا تو بہت طویل سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور قیام کیا تو بہت طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا تو بہت طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھاکر کر قیام کیا تو بہت طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر قیام کیا تو بہت طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا تو طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا (اور قومہ کیا) پھر سجدہ کیا تو طویل سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا پھر سجدہ کیا تو طویل سجدہ کیا، پھر نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’جنت مجھ سے قریب ہوگئی تھی حتی کہ اگر میں جرات کرتا تو اس کا پھل توڑ کر تمہارے پاس لے آتا اور جہنم مجھ سے قریب ہوئی حتی کہ میں نے کہا: اے رب!( کیا لوگوں پر عذاب آجائےگا) جب کہ میں ان کے درمیان موجود ہوں؟‘‘ نافع بن عمر ؓ نے فرمایا: میرا خیال ہے انہوں نے ( ابن ابی ملیکہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے) یہ الفاظ بھی فرمائے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے( جہنم میں) ایک عورت دیکھی جسے اس کی ایک بلی پنجے مار رہی تھی، میں نے کہا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس نے اس ( بلی) کو بند کر دیا تھا حتی کہ وہ بھوک سے مر گئی نہ اس نے اسے ( خود) کھانا دیا، نہ اسے چھوڑا کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔‘‘ 1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوغیبی اشیاء کامشاہدہ کرادیا جانا بھی وحی کی ایک صورت ہے۔جنت اور جہنم کی صورت دکھائی گئی تھی اصل جنت اور جہنم کومسجد میں حاضر نہیں کیا گیا تھا۔اور نہ سب لوگ دیکھ لیتے۔2۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے۔کہ اگر نمازی کے سامنے آگ یا کوئی اور ایسی چیز موجود ہو جسے مشرکین پوجتے ہیں۔لیکن نمازی کی نیت صرف اللہ کو سجدہ کرنے کی ہو تونماز درست ہے۔(صحیح البخاری الصلاۃ باب من صلی وقدامہ تنور او نار اور شی مما یعبد فار ادبہ وجہ اللہ تعالیٰ حدیث 431)۔3۔جانوروں پر ظلم کرنا جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔4۔پالتو جانوروں کو خوراک اور دیگر ضروریات مہیا کرنا مالک پر فرض ہے۔