Book - حدیث 1259

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ يَقُومُ الْإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَتَقُومُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ وَوُجُوهُهُمْ إِلَى الصَّفِّ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً وَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَيَسْجُدُونَ لِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ ثُمَّ يَذْهَبُونَ إِلَى مُقَامِ أُولَئِكَ وَيَجِيءُ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ فَهِيَ لَهُ ثِنْتَانِ وَلَهُمْ وَاحِدَةٌ ثُمَّ يَرْكَعُونَ رَكْعَةً وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فَسَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ لِي يَحْيَى اكْتُبْهُ إِلَى جَنْبِهِ وَلَسْتُ أَحْفَظُ الْحَدِيثَ وَلَكِنْ مِثْلُ حَدِيثِ يَحْيَى

ترجمہ Book - حدیث 1259

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: نماز خوف کا بیان سیدنا سہل بن ابو حثمہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے نماز خوف کے بارے میں فرمایا: امام قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جائے اور مجاہدین کی ایک جماعت اس کے ساتھ( اس کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کے لیے) کھڑی ہو جائے۔ دوسری جماعت دشمن کے مقابل رہے، ان لوگوں کے چہرے صف کی طرف ہوں گے۔ وہ انہیں ایک رکعت پڑھائے گا اور وہ اپنی جگہ چلے جائیں گے اور وہ ( دوسری جماعت کے افراد) آجائیں گے۔ امام کے ساتھ مل کر ایک رکوع اور دو سجدے کریں گے( امام ایک رکعت پڑھائےگا۔) اس طرح امام کی دو رکعتیں ہو جائیں گی اور ان( مقتدیوں ) کی ایک ایک رکعت، پھروہ ( دونوں گروہوں کے مقتدی) ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے (اپنے اپنے) کر لیں گے۔‘‘ امام ابن ماجہ کے استاد محمد بن بشار کہتے ہیں: میں نے یحیی بن سعید قطان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث شعبہ سے عبدالرحمن کے واسطے سے قاسم سے بیان کی( جب کہ یہی حدیث جب انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے بیان کی تو انہوں نے عبدالرحمن کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔) اور یہ حدیث بیان کرتے ہوئے یحیی بن سعید قطان نے مجھے کہا کہ اس کو انصاری کی حدیث کے ساتھ ہی لکھ لو مجھے حدیث یاد نہیں، یحییٰ نے کہا: لیکن وہ یحیی بن سعید انصاری کی حدیث کی مثل ہی ہے۔