Book - حدیث 1255

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي إِذَا أَخَّرُوا الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا حسن صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لِلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً

ترجمہ Book - حدیث 1255

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: جب لوگ تاخیر سے نماز ادا کریں تو کیا کرنا چاہیے سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شاید تمہیں ایسے لوگ ملیں جو نماز کو بے وقت ادا کرتے ہوں۔ اگر تم انہیں پاؤ تو گھروں میں اس وقت نماز ادا کر لیا کرو جو تمہیں معلوم ہے( کہ یہ صحیح وقت ہے) پھر ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لو اور اسے نفل سمجھ لو۔‘‘ 1۔شاید تمھیں ایسے لوگ ملیں اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں ایسے لوگ پائے جایئں گے۔جو بلا وجہ نماز تاخیر سے پڑھایئں گے۔ اور عین ممکن ہے کہ اس وقت تم صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین بھی موجود ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین کی موجودگی میں بعض حکمرانوں نے نماز تاخیر سے پڑھنے کی عادت اختیار کرلی۔2۔اسلام میں اجتماعیت کی اتنی اہمیت ہے۔ کہ اگر حکام نماز بے وقت پڑھاتے ہوں تب بھی نماز باجماعت کو قائم رکھنا چاہیے۔ لیکن ائمہ اور حکام کو صحیح شرعی حکم بتانا اوراس پر عمل کرنے کی ترغیب دینا بہرحال ضروری ہے۔3۔اول وقت نماز کی بھی بہت اہمیت ہے اس لئے گھر میں اول وقت نماز ادا کرلینا چاہیے ۔لیکن اگر مسجد میں نماز کے اوقات کا تعین حکمرانوں کی مداخلت کے بغیر مسلمانوں کے مشورے سے ہوتا ہو۔تو پھر مسجد میں اول وقت نماز ادا کرنا ضروری ہے۔4۔ اسے نفل سمجھ لو سے بعض علماء نے یہ سمجھا ہے۔کہ بلا جماعت اول وقت ادا کی ہوئی نماز نفل ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اول وقت پڑھی ہوئی نماز ہی اصل فرض نماز ہے۔بعد میں جماعت کے ساتھ ادا ہونے والی نماز مزید ثواب کا باعث ہے۔جیسے کہ حدیث 1257 میں صراحت سے وار د ہے۔تاخیر سے نماز ادا کرنے والے اماموں کے ساتھ جو نماز پڑھی جائے گی۔وہ نفل یعنی مزید ثواب کا باعث ہوگی۔