Book - حدیث 1237

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا

ترجمہ Book - حدیث 1237

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ بیمار ہوگئے۔ آپ کے صحابہ میں سے چند افراد آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ نبی ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو انہوں نے آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: ’’امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، اس لئے جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ، جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم ( بھی) بیٹھ کر نماز پڑھو۔‘‘ 1۔حالت بیماری میں گھر میں نماز پڑھنا جائز ہے۔2۔مریض کی بیمار پرسی کرنی چاہیے۔3۔رکوع وسجود وغیرہ میں امام سے آگے بڑھنا جائز نہیں(سنن ابن ماجہ۔حدیث 960تا 963)4۔امام بیٹھ کرنماز پڑھائے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔اگرچہ کوئی عذر نہ ہو۔ اکثر علماء اس حکم کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ کہ آخری ایام میں بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین نے آپصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوکر نمازادا کی۔اور یہی بات صحیح ہے۔