Book - حدیث 1214

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابٌ فِيمَنْ سَلَّمَ مِنْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ سَاهِيًا صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ كَانَتْ فِي الْمَسْجِدِ يَسْتَنِدُ إِلَيْهَا فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ قَصُرَتْ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يَقُولَا لَهُ شَيْئًا وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنْسَ قَالَ فَإِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالُوا نَعَمْ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 1214

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: دو یا تین رکعت پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دینا؟ سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں پچھلے وقت کی ایک نماز( ظہر یا عصر کی) دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ مسجد میں ایک لکڑی تھی( غالبًا ستون ہوگا) نبی ﷺ اس سے ٹیک لگا کر تشریف رکھا کرتے تھے ، پھر( سلام پھیرنے کے بعد) نبی ﷺ اٹھ کر اس لکڑی کی طرف چلے۔ جن افراد کو( جانے کی) جلدی تھی وہ یہ کہتے ہوئے چل دیے۔ نماز کم ہوگئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ؓ بھی موجود تھے۔ وہ آپ سے کچھ عرض کرنے سے ڈرے( کہ نبی ﷺ کو ناگوار نہ گزرے) لوگوں میں ایک لمبے ہاتھوں والے صاحب بھی تھے،جو ذوالیدین کے نام سے معروف تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ سے بھول ہوگئی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نہ نماز کم کی گئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں ۔نبی ﷺ نے فرمایا: ’’کیا( ایسے ہی ہوا ہے) جس طرح ذوالیدین کہتا ہے؟‘‘ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ تب رسول اللہ ﷺ نے اٹھ کر دو رکعتیں پڑھیں، پھرسلام پھیرا پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔ ۔نماز باجماعت کے بعد اپنی جگہ سے اٹھ سکتے ہیں۔اگرچہ مسجد میں دوسری جگہ بیٹھنے کاارادہ ہوتاہم نماز کی جگہ بیٹھ رہنا ثواب کاباعث ہے۔ایسے شخص کے لئے فرشتے دعایئں کرتے ہیں۔دیکھئے(سنن ابن ماجہ حدیث 799)2۔کسی کی بات کی تحقیق کرلینا اس پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں ہوتا۔ بلکہ یقین میں اضافے کے لئے ہوتاہے۔3۔اگر کوئی شخص اپنی کسی خاص جسمانی ساخت (مثلا چھوٹا قد یادبلاجسم وغیرہ) کی وجہ سے کسی خاص نام سے مشہور ہوجائے تو اسے اس نام سے زکر کرنا جائزہے۔جیسے رسول اللہ ﷺنے اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زوالیدین (ہاتھوں نام سے زکرکریں)4۔سلا م کے بعدسجدہ سہو کیا جائے تو اس کے بعد دوبارہ سلام پھیرنا چاہیے۔